Imaging-Relations-by-Asim-Mehmood

ٹِم ٹِم رشتے (Imaging Relations)

حصہ اول ( Imaging Relations )
تحریر: عاصم محمود
میرے لئے یہ ایونٹ جتنا دیکھنے میں آسان لگ رہا تھا اس سے کہیں زیادہ مشکل ایونٹ نظر آیا. بیشک اس ایونٹ کے حوالے سے رشتوں پر لکھنے کا مارجن بہت زیادہ ہے مگر جب دماغ کے گھوڑے کسی رشتے کی طرف دوڑاتے تو الفاظ ہی غائب ہو جاتے ہیں.
ہمارے ظاہری رشتوں کےعلاوہ بھی ہم نے خود کو خیالی رشتوں میں استوار کیا ہوتا ہے. یہ خیالی رشتے کہیں نظر نہیں آتے نہ ہی یہ نظر آسکتے بس انہیں اپنے آپ میں محسوس کیا جاتا ہے کبھی بہت شدت میں کبھی بہت اداسی میں تو کبھی مسکراہٹوں کے ساتھ اس خیالی رشتے کی تواضع کی جاتی ہے. یہ واحد رشتہ جس پر ہمارا سو فیصد کنٹرول ہوتا ہے ہم اسے جیسے چاہےاسی رنگ میں بدل دیتے ہیں. ہمارا اس رشتے کے ساتھ ہنسنےکو دل چاہ رہا ہوتو یہ رشتہ ہمیں ہنسا ہنسا کر پاگل کردیتا ہے ہم رونا چاہ رہےہوں تو یہ رشتہ ہمارے آنسو صاف کرتا محسوس ہو رہا ہوتا ہے.
ادب کے حوالے سے جتنے بھی شاہکار جتنی بھی پریم کہانیاں جتنی بھی شاعریاں افسانے لکھی گئی سب اسی ایک خیالی رشتے کی مرہون منت ہے.
ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں کوئی اپنا دوست، عزیز، کولیگ یا کسی اور شکل میں ساتھی ہمیں اچھا لگنے لگ جاتا ہے اس کی باتیں اس کی عادتیں اس کی ایک ایک حرکت ہمیں خود کے اندر محسوس ہونے لگتی ہے وہ انگریزی میں کہتے ہیں نا “سم ون اسپیشل” یہ بھی وہی رشتہ ہوتا ہے جسے ہم پسند کرنے لگ جاتےہیں خواب دیکھنے لگ جاتے ہیں مگر کہہ نہیں پاتی. ہمارے لمحے اپنے محبوب کو سوچ کر خوشگوار ہوتے جاتے ہیں. ہم اگر اپنے محبوب کےپاس جانا چاہیں تو یہ خیالی رشتہ چند لمحوں میں ہمیں اس کے سامنے کھڑا کردیتا ہے یہاں سے ہماری شدت کی طلب بڑھنی شروع ہو جاتی ہے ہم اپنے محبوب سے بات کررہے ہیں تو خیالی رشتہ ہمیں محسوس کروا رہا ہوتا ہے ہم آمنے سامنے. اپنے محبوب کی ایک ایک ادا اسی رشتے کی بدولت ہمارے اندر رچ بس سی جاتی ہے ہمیں اچھا لگتا ہے اس کےبار بار پاس جانا اپنی ان دیکھی اور ناتمام حسرتوں کو اس توسط سے پورا کرنا. ہم اس رشتے میں کوئی حد رکھنا بھی گنوارا نہیں کرتے بس یہاں من مرضی کو اہمیت دی جاتی ہے.
پھرکیا ہوتا ہے حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے ہمارا محبوب ہماری پہنچ سے اتنی ہی دور ہوتا ہے جتنا اسے ہم نے خیالی رشتے میں اپنے پاس کیا ہوتا ہے. ہمارے اندر کی جاگی خواہشیں حقیقتوں کے بل بوتے پر کرچی کرچی ہوتی رہتی ہیں ہم بے بس ہوتے بس ہمیں ٹوٹنا ہوتا ہے بہت زیادہ ٹوٹنا ہوتا ہے. .
فر ہم آخر کار اسی خیالی رشتے کا سہارا لیتے ہیں اور اسی میں زبردستی خوشیوں کو اپنے اوپر سوار کرنے لگ جاتے ہیں کہ چلو ہمیں اپنے محبوب کا ساتھ ایسے تو میسر. یہی سے عشق کی بنیاد بننے لگتی ہے ہمیں نہیں پتہ ہوتا کہ جسے ہم کبھی پسند کرتے تھے اس سے عشق ہوگیا ہوا ہمیں. محبوب اگر بیمار ہو دکھ میں ہو تو خیالی رشتے کی شدت ہماری پلکیں آنسوؤں سے بھر دیتی ہے ہم اپنی نیندیں کھانا پینا اپنا سکون تک بے چینی کے حوالے کر کے خود کرب میں ڈھل جاتے ہیں.
کیسا عجیب سا رشتہ ہے ناں ہمیں کہاں سے کہاں لا کھڑا کرتا ہے. .
جاری ہے
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں