Tim-Tim-Rishtay-silent relationship-by-asim-mehmood-5

ٹِم ٹِم رِشتے (Respect of Relationship)

(سوچوں کی گُتھیاں) آخری حصہ

تحریر: عاصم محمود
آئیے سیر کو چلتے ہیں. آپ کا دل چاہ رہا ہے بہت سارا خوش ہونے کو بہت سارے غموں کو سائیڈ پر رکھکر ان کی جگہ مسکراہٹوں کو مسکن بنانے کا موڈ ہے. ہم اپنی اس سیر کو مزید اچھا بنانے کے لئے ضروری سامان بھی ساتھ لئے چلتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت پریشانی نہ ہو. ہمارے دماغ میں بس ایک بات ہی گھوم رہی ہے کہ ہم بہت سارا خوش ہونے جا رہے ہیں ہم اندر ہی اندر منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں کہ ہم سیر کے دوران یہ کریں گے یہ کھائیں گے وغیرہ وغیرہ.. یہ سب باتیں ہمارے دماغ میں چل رہی ہیں اور ہم سوچ سوچ کر ہی مسکرائی جارہے ہیں کہ ہم بہت سارا خوش ہونے جاریے ہیں-
Tim-Tim-Rishtay-silent relationship-by-asim-mehmood-3
ہمیں کوئی ٹوکنے والا نہیں ہوگا ہمیں کوئی سمجھانے والا نہیں ہوگا ہم اپنی ذات کے خود بادشاہ اور دربان ہوں گے خود ہی فیصلہ لے کر خود ہی اپنا حکم بجا لائیں گے کسی سے مشورہ نہیں کرنا پڑے گا نہ اجازت لینی پڑے گی نہ ہی انتظار کرنا پڑے گا. آپ محسوس کریں جب یہ سب باتیں آپ کے دماغ میں گھوم رہی ہوں ابھی آپ بس سوچ ہی رہے ہیں مگر آپ کے لبوں پر مسکراہٹ اس بات کی گواہی دے رہی ہوگی کہ آپ نے بہت سارا خوش ہونے سے پہلے ہی خوش ہونا شروع کر دیا ہے.ابھی کج کیا بھی نہیں ہے مگر آپ کے خیالات ہی آپ کو خوشیوں کی مالائیں پہنائی جارہے ہیں-
یہ لیں جی ہم سیر کو نکل آئے ہیں ہماری خوشیاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں ہم ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد ہیں ہمیں بس اب سکون کرنا ہے ہمیں کسی غم کسی تکلیف کو یاد کر کے اپنی خوشیوں کا بھرم نہیں توڑنا. ہم اپنی مرضی سے گھوم رہے ہیں کبھی ہم قدرتی نظاروں کو دیکھکر دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں کبھی ہم بازار میں چلتے ہوئے سب کے چہروں کو دیکھ رہے ہیں کہ کیا وہ سب ہم جتنا ہی خوش ہے کیا وہ بھی یہاں خوش ہونے آیا ہے. جس جس چہرے پر ہماری نظر جاتی ہے وہ چہرہ مسکراتا ہی نظر آتا ہے ہمیں اپنے مقصد پر یقین ہوتا جاتا ہے کہ ہم سیر کے لئے آئے ہم نے بالکل صحیح فیصلہ کیا. .ہم بہت زیادہ خوش ہیں-
سارا دن سیر کر کے مزے کے کھانے کھا کر ہم اپنے بستر پر آگئے ہیں اب ہمارے دماغ میں چل رہا ہے آج ہم نے کتنا انجوائے کیا ہم نے یہ بھی کیا ہم نے وہ بھی کیا ہم کسی موقع پر دکھی نہیں ہوئے ہمیں کہیں تکلیف نہیں ہوئی یہ سوچیں ہمیں بستر پر لیٹے لیٹے اور زیادہ خوش کئے جارہی ہیں ہم کبھی دائیں کروٹ لیتے ہیں تو کوئی بات یاد آجاتی ہے ہم بائیں طرف کروٹ لیتے ہیں ہم تب مسکرا پڑتے ہیں ہمیں نیند نہیں آرہی ہم نے اب کل کس کس خوشی کو انجوائے کرنا ہے کل کہاں کہاں جانا ہے ہم یہ بھی سوچتے جا رہے ہیں.دھیمی سی مسکراہٹ ہمارے چہرے سے جانےکا نام ہی نہیں لے رہی. انہی سوچوں میں پھرتے پھراتے اپنی آزادی کا جشن مناتے سو گئے ہیں-
ارے یہ کیا ہمیں تو خواب بھی ایسے آرہے ہیں کہ ہم سیر پر ہی ہیں خوابوں میں بھی ہم بہت زیادہ خوش ہیں.
اب چلتے ہیں دوسری طرف-
ہم جب ہوش سنبھالنا شروع کرتے ہیں نا تو ہماری ذات کا سب سے پہلے جس چیزسے واسطہ پڑتا ہے وہ چیز ہماری سوچ ہوتی ہے. یہ تاحیات ہمارا ساتھ دیتی ہے یہ ہمیں کسی بھی حالات میں اکیلا نہیں چھوڑتی ہمیں رونا ہے ہنسنا ہے ناچنا ہے کج بھی کرنا ہے ہماری لگامیں اسی سوچ کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں-
ہم نے سیر کرنے سے پہلے ہر اس بات کو اپنے اندر فکس کیا جس سے ہم بہت سارا خوش ہوسکتے تھے اپنے لمحات کو خوبصورت بناسکتے تھے ہم نے ہر وہ چیز باہر نکال دی جو ہمیں بہت سارا خوش نہیں ہونے دے سکتی تھی ہم نے یہ خوشی بھی منائی کہ ہمیں روکنے ٹوکنے والا سمجھانے والا کوئی نہیں-
کتنی آسانیوں سے ہم نے اپنا مائنڈ سیٹ کیا اور خوشیاں اپنے بستر سے لیکر خوابوں تک لے آئے-
ہمیں روکنا ٹوکنا کیوں برا لگتا ہے کسی کا سمجھانا کیوں ہمیں چڑچڑا کرتا ہے ہمارے ساتھ یہ فعل کرتے کون ہیں.یہ وہ سوال جو ہم سوچنا ہی نہیں چاہتے اور ان کا جواب بس ایک کہ جو ہمارے اپنے ہوتے جو ہمارا اچھا چاہتے وہ ہی یہ فعل یہ روئیے ہمارے ساتھ رکھتے-
ہمارے بڑے ہمارے والدین ہی ہمارے اپنے ہوتے ہماری اصلی خوشیاں ان سے ہی منسوب ہوتی مگر ہمیں یہ بہت برے لگتے جب یہ ہمیں ہماری سوچ کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتے. ہم یہاں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے والدین بہت سارا خوش کب ہوتے ہیں کیا کبھی وہ ہمیں چھوڑ کر اپنی خوشیاں آباد کرنے سیر سپاٹوں کو گئے کیا کبھی انہوں نے ہماری خواہشات کو روند کر اپنے سکون کو آباد کیا وہ کبھی کر ہی نہیں سکتے ایسا ان کی ساری خوشیاں ہی ہماری سانسوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں ہماری سانسیس ان کی انرجی ہوتی ہے اسی انرجی کوپانے کے لئے انہوں نے پتہ نہیں کیا کیا قربانیاں دی ہوتی ہیں. عید تہوار کے دن ہوں یا شادی بیاہ جیسے فنکشنز کبھی ہمارے والدین نے ہم سے پہلے اپنے جوتے نہیں لئے کبھی انہوں نے ہم سے پہلے نئے کپڑے نہیں بنائے وہ تو اسی خوشی میں پیسوں کا انتظام کرنے لگ جاتے ہیں کہ میرے بچے خوش ہوں گے یہ احساس کمتری میں نہیں جائیں گے یہ مسکرائیں گے یہ سب رکاوٹیں دور کرنے میں پتہ نہیں ہمارے والدین اپنی کتنی خواہشیں اپنے ہاتھوں سے نوچتے ہیں اپنے اندر کی مجبوریوں میں کتنے آنسو اندر ہی اندر بہادیتے ہیں مگر ہمارے اندر کی سوچ کو مخالف نہیں ہونے دیتے اتنی خوشیاں ہماری مٹھیوں میں تھمادیتے ہیں. ہمارے والدین ہماری سوچوں کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے اپنی خوشیوں کو اتنا الجھا جاتےہیں کہ انہیں اپنی خوشی جینے کے لئے سِرا ہی نہیں ملتا.
اپنی خوشیوں پر اپنی اولاد کی خوشیوں کے پیوند لگا کر اپنے گھاؤ بھر رہے ہوتے ہیں.
ہمارے بھلے کے لئے کج سمجھائیں کسی ایسی باتیں سے منع کریں جس سے ان کی خوشی مدھم ہونے کا انہیں ڈر ہو تو ہم چند لمحوں میں انہیں کم عقلوں کی صف میں کھڑا کر کے ان کی بے بسیوں کو چار چاند لگا دیتے ہیں. مجھے کسی باپ نے بتایا تھا کہ میرے مالی حالات بہت خراب تھے. میری بیٹی کی طبیعت خراب ہوگئی میری جیب میں اتنے پیسے تھے کہ اگر کرایہ دیتا تو دوائی نہ لے پاتا تو بیٹی جو گود میں اٹھائے رات کے وقت تقریبا دو کلو میٹر میں ڈاکٹر کی طرف بھاگا. میں بس سن رہا تھا انہیں اور بولنے کو کج نہیں تھا کیونکہ دماغ میں دوسری بات گھوم رہی تھی.میرے آفس کا ایک بندہ کافی بیمار ہوگیا ہم اس کی عیادت کو گئے تو اس نے بتایا کہ ہماری غربت اتنی ہے میرے چار جوان بچے اور ہم میاں بیوی ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں. رات مجھے کھانسی شروع ہوئی اور ساتھ میرے دل میں درد شروع ہوگیا میں تکلیف سے کراہنے لگا میری کھانسی کی آواز سے میرا بڑا بیٹا جاگ گیا اور بولا ابا سکون سے ہمیں سونے نہیں دینا تو مر ہی جاؤ یہ کہہ کر وہ دوسری کروٹ لیٹ گیا. میری بیوی جاگی اس نے آدھی رات کو میرے بھائی کو بلایا مجھے ہسپتال لے گئے وہ بزرگ بولے کہ اب تو میں دیکھنے میں ہی زندہ ہوں مر تو میں رات ہی گیا تھا اپنے بچوں کے سکون کے لئے۔
ایک باپ وہ جو اپنی بیٹی کے لئے پاگلوں کی طرح پیدل بھاگ رہا تھا ایک اولاد یہ جو باپ کے مرنے پر سکون چاہ رہی تھی.
مزہ آگیا نا….؟؟؟
اگر ہم بہت سارا خوش ہونے کے لئے سیر کو جاسکتے ہیں سوچ سوچ کر خوش ہو سکتے ہیں قدرتی نظاروں کو دیکھکر بازار میں مسکراتے چہرے، رات کو بستر پر جا کر سارے دن کی خوشیوں کا ذخیرہ سرہانے نیچے رکھکھر اور خوابوں میں بہت سارا خوش ہو سکتے ہیں تو ہم اپنی سوچ کے رشتے کی گتھیوں کا سِرا اپنے ماں باپ کے ہاتھ میں پکڑا کر انہیں بھی بہت سارا خوش کر سکتے ہیں یقین مانیں ہماری سیر ان کے چہرے پر ہی ہو جائے گی.
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں