Tabeer-Welfare-Foundation

تعبیر ویلفئیر فاؤنڈیشن بھیرہ Tabeer Welfare Foundation Bhera

27 فروری 2022 کا دن جس کے بارے میں اگر سچ کہوں تو کہیں نہ کہیں یہ خیال آرہا تھا کہ عاصم اس دن کی دعوت سے زیادہ ضروری وہ کام ہے جس سے ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا بعد میں دعوت دینے والوں سے معذرت کر لونگا مگر مسئلہ حل ہونا زیادہ ضروری ہے۔میرا وہ فیصلہ میری زندگی کے ایک ایسے موڑ پر مجھے کھڑا کر گیا جدھر سے مجھے “بے لوث محبت” لفظ کی شناسائی ہوئی۔

مظہر حیات بھٹی صاحب جن کے ساتھ ملاقاتوں کے سلسلے گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد میں میرے گھر میں رات کے کھانے کے دوران انہوں نے ہی دعوت نامہ دیا تھا کہ بھیرہ میں تعبیر ویلفئیر فاؤنڈیشن کو لیکر ایک ایونٹ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔




27 فروری 2022 کی صبح بھیرہ اس ایونٹ میں شرکت لے لئے جب مقررہ جگہ پہنچا تو محترم مظہر حیات بھٹی صاحب اسپیشلی اندر لے کر گئے اور پھولوں کی پتیوں کے ساتھ استقبال کے ساتھ خوبصورت گلدستے کے ساتھ خوش آمدید کہنا میرے لئے غیر معمولی احساس تھا۔  میرے کانوں میں یہ آواز بھی گونج رہی تھی کہ دوسری طرف اسپیکر پر مجھے ویلکم کیا جا رہا ہے۔ مجھے لگا کہ جیسے استقبال کیا جا رہا ہے وہاں موجود احباب ایک لمحے کے لئے چونک گئے ہونگے کہ اتنا پروٹوکول۔

Asim-mehmood-welcome

یہاں میرے لئے قابل افسوس بات یہ تھی کہ میں اس تقریب کے آخری لمحات میں پہنچا تھا اور افسوس بھی تب ہوا جب اسٹیج پر موجود احباب کو باری باری سنا اور پتہ چلا کہ یہ تقریب اور اس کے ساتھ جُڑے مقاصد مکمل نیک نیتی اور اللہ کی رضا کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔

کچھ دیر بعد عثمان جاوید کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولے کہ عاصم سر اگلی باری آپ کی ہے۔ میں تقریب کے جس سحر میں کھو رہا تھا اچانک اس سوچ میں پڑ گیا کہ یہاں اتنے بڑے بڑے لوگ موجود ہیں میں کیا بولوں گا۔ کچھ اعلان تو میں پہلے سے سوچا ہوا تھا مگر یہ ایک امتحان تھا کہ سب کے سامنے بولنا۔

Tabeer Welfare

 

اللہ کا شکر کہ اسٹیج پہ بولنے کی نوبت نہیں آئی مگر اسٹیج پر گزرے لمحات شائد میں نیچے آنے والے الفاظ میں نہ اتار سکوں۔




مجھے اسٹیج پر مدعو کیا جاتا ہے اعزازی سند کے لئے مگر میری زندگی کا دوسرا بڑا اعزاز اس کے بعد والا تھا (پہلا اعزاز پھر کبھی بتاؤنگا) میرے ساتھ محترم مظہر حیات بھٹی کے والد محترم کو بھی مدعو کیا گیا۔ یہ پہلا کرنٹ تھا جو شدت سے لگا تھا دل میں آیا کہ لو جی عاصم صاحب تسی وی بزرگ ہو گئے ہو ایس لئی بزرگاں نال اسٹیج تے بلایا اے۔ ہائے اللہ مظہر بھائی کے والد صاحب کو صحت تندرستی دے۔ آمین ثم آمین۔ وہ میرے ساتھ کھڑے تھے اور پھر اچانک سے مظہر بھائی بھی اسٹیج پر آتے ہیں اور میرے اور ساتھ والد صاحب کے گھٹنوں کو ھوتے ہیں۔ یہ لمحہ مجھے بُت بنا گیا تھا، مجھے لگا کہ میں ایک مجصمہ ہوں اور گھٹنوں کو چھونے کے بعد روح ساکت ہوگئی ہے۔ میری آنکھوں میں اتنی عزت ملنے پر آنسو آچکے تھے۔

Asim-Mehmood-Shield

مظہر بھائی عمر میں مجھ سے بڑے ہیں مگر ان کی ان کے حلقہ احباب میں جو الحمداللہ عزت ہے اس کا یقین اُسی اوپر دئے گئے احساسات کے بعد ہوا کہ جو شخص دوسروں کو اتنی عزت دینے کی اہلیت رکھتا ہے تو اللہ اس کی عزتوں میں اپنی برکتیں کیوں شامل نہ کرے گا۔

ڈائس پر کھڑے زوہیب حسن کے چھوٹے بھائی  بار بار اعلان کر کے میرے اور والد محترم کے ہاتھوں معزز شخصیات کو اسناد، شیلڈز دلوا رہے تھے مگر میرا دماغ اسی لمحے میں پوری طرح سے قید تھا۔ کہ مہمانوں کو کھانے سے “رجایا” جاتا ہے مگر مجھ ناچیز کو اتنی زیادہ عزت دیکر “رجا” دیا تھا۔

تعبیر فاونڈیشن بھیرہ اور گردنواح میں ایک مثالی ادارہ کی شکل میں ابھرتی ہوئی انقلابی  شکل ڈھالتی جا رہی ہے۔ جس کی پشت میں، مضبوط استون جن کا اب اگلا مقصد ہی فلاح بانٹنا ہے موجود ہوں وہ ادارہ دن رات کی کٹھن محنت کے بعد ٹم ٹم ستارے کی طرح جگمگاتا دوسرے ستاروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا جا رہا ہے۔

تعبیر فاؤنڈینش مکمل فلاح ادارہ جس میں بیواؤں، یتیموں، بیماروں کے ساتھ ساتھ وہ بچے اور بچیاں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکتے جن کے اخراجات ان کی زندگی میں کٹھن آزمائش ہیں ان سب کے لئے تعبیر فاؤنڈینش وہ مسیحا اور وسیلہ ہے جو ان شاء اللہ بہت جلد پاکستان میں یہ ثابت کرے گا کہ اس ادارے نے اللہ کی مدد کے ساتھ لوگوں کو زندگیاں دی ہیں، کامیابیاں دی ہیں۔

یہ ادارہ چندہ لینے والے اداروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر اس ادارے کے ساتھ جڑا ہر شخص اپنی بساط سے کہیں زیادہ اپنی طاقت لگانے میں مصروف ہے۔

اگر میں یہ کہوں کہ مظہر بھائی، زوہیب حسن بھائی اور دوسرے سب لوگ جو اس ادارے کے بانیوں میں شامل ہیں وہ ادارے کے نام پر آخرت بنانے کی چابی حاصل کر چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ان احباب کی محنت اپنی جگہ مگر یہ لوگ جو دعائیں سمیٹ رہے ہیں وہی اصل کامیابی ہے۔ اور جس کام میں دعائیں شامل ہوں وہاں گمنام زندگیاں بھی ساتھ جڑنے کے بعد جگمگاتی ہیں۔

میرے الفاظ اس تحریر میں ضرور لڑکھڑا رہے ہونگے مگر آپ کو نظر آنے والے یہ الفاظ میرے وہ احساسات ہیں جو کبھی لفظوں میں پروئے نہیں جا سکیں گے۔

Tabeer Foundation

تعبیر فاؤنڈیشن وہ گھرانہ ہے جس میں ہر کسی کو اس کی کفالت میں حصہ ڈالے کی مکمل آزادی ہے۔  آپ اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کے لئے ہزاروں اچھے کام کرنے میں مصروف ہونگے مگر میری آپ سب پڑھنے والوں سے ایک گزارش  یا یوں سمجھ لیں کہ میری تعبیر فاؤنڈینش بھیرہ کے لئے جھولی آپ کے آگے اٹھی ہوئی ہے اور اللہ کے واسطے میں آپ سے اس کا حصہ بننے کی التجاء کرتا ہوں۔ اس کا حصہ ضرور بنیں۔

ہو سکتا ہے آپ کسی کی خوشی کی وجہ بن جائیں، آپ کسی کی شفاء کا وسیلہ بن جائیں۔ کیونکہ پاکستان میں تعبیر فاؤنڈینشن جس طرح سے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے یہ ساری بات توفیق کی ہے اور اللہ ہر کسی کو توفیق نہیں دیتا اور جنہیں توفیق ملی ہوتی ہے وہ کبھی اپنے آپ کو اس طرف ٹٹو ل ہی نہیں پاتےکہ وہ اس توفیق کے مالک ہیں۔

میرے زندگی کی بڑی خوشیوں میں یہ خوشی نمایاں جگہ رکھتی ہے کہ میں تعبیر فاؤنڈینشن کا حصہ ہوں اور ان شاء اللہ تاحیات رہوں گا۔




میں مینٹور آن لائن اور کامیابی آن لائن فیصل آباد پلیٹ فارم کی توسط سے برملا کہوں گا کہ اس ادارے کے ساتھ زمانے کی جدتوں اور اپنی آن لائن فیلڈز کے رشتے کو تعبیر فاؤنڈیشن بھیرہ کے ساتھ جڑے رشتے کا مان بڑھانے کے لئے بغیر کسی چارجز کے بلاگنگ، فری لانسنگ، یوٹیوب، ای کامرس، فیس بک کے ساتھ وہ تمام علم بانٹنے کو تیار ہوں جس سے زندگیاں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا سلیقہ جان سکیں۔

تعبیر فاؤنڈیشن بھیرہ انتظامیہ مجھے وہاں آکر پڑھانے کو کہے گی یا آن لائن اسسٹم کے ساتھ چلنا چاہے گی میں دن رات دل و جان سے پہلی صف میں نظر آؤنگا انشاء اللہ،  کیونکہ میں مینٹور آن لائن کی طرف سے پاکستان میں پہلی دفعہ ایک یونیک پراجیکٹ “جس کی تفصیلات بہت جلد آپ کے سامنے ہونگی” کے بعد تعبیر فاؤنڈیشن  بھیرہ کے ساتھ خود کو وقف کرنے کی نیت کر چکاہوا ہوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں